Wednesday, 3 August 2011

بہاروں سے بھرا پیشہ

بہاروں سے بھرے گھر میں پچاسی سال کا بوڑھا

پچاسی سبز موسم انگلیوں پہ گن کے بولا،ایک لڑکے سے
صدی سے کم نہیں میرایہاں پر بیٹھنابیٹے
تجھے چوپال کیوں اچھی نہیں لگتی
مری جاگیر ورثہ ہے مرے اجداد کا بیٹے
مرے دادا کے اور والد کے کھیتوں میں مسلسل چلتے رہنے سے زمیں پر فصل اگتی تھی
یقیناچاپ سن کر میری نسلوں کی
یہ مٹی اور بھی زرخیز ہوگی
مگر بیٹے کہو بیٹے کہو نم
یہ پیشہ چھوڑنا کیوں چاہتے ہو
وراثت ہے تمہاری
تمہارے باپ دادا۔۔ہل چلاتے تھے
سوتم بھی ہل چلانے کیلئے پیدا ہوئے ہو
یہ محنت کوئی طعنہ تو نہیں ہے۔۔کبوتر ہو۔۔
یہی پرواز بہتر ہے
کبوتر کیلئے اچھا نہیں شہباز کا پیشہ
یہ ساری گفتگو سن کر کہا،دھقان کے پُر عزم بیٹے نے 
’’تمہاری نسل کے گھر میں رکے ہیں سبز موسم
مرے گھر میں کئی نسلوں سے ویرانی خزاں کی


مجھے تو سوچنا ہے
بہاروں سے بھرے گھر
جیسے تم لوگوں کے ہیں بابا
یہ کیسے ہاتھ آتے ہیں
مجھے معلوم کرنا ہے بہاروں سے بھرا پیشہ
مجھے معلوم کرنا ہے بہاروں سے بھرا پیشہ

عشقِ مجاز کے چند لمحے



اب اس سولہ سالے۔۔
دلکش بھولے بھالے۔۔
نیلے نینوں والے
لڑکے سے درخواست کرو
’’شرنا‘کی آواز پہ ناچے ۔۔ جیسے کتھک ناچ کیا تھا کل اس نے
نازک قوس کلائی کی۔۔قوسِ قزح کے رنگ بکھیرے
نرم تھراہٹ پائوں کی۔۔جیسے پارہ ٹوٹتا جائے
تھر کاتا جائے اپنے بم
گھومے اپنی ایڑھی پر
اور تناسب نرم بدن کا تھال کے تیز کناروں پر دکھلائے
او رومی کے نغمے گانے والی۔۔۔سرخ سفید رقاصہ
آج تمہاری محفل میں 
میرے ہمرہ آئے ہوئے ہیں
حافظ ، خسرو، بلھے شاہ اور مادھولال حسین





محبت یلئے تین نظمیں



نئی سوچ


کتابوں میں رکھے ہوئے خواب دیمک زدہ ہو گئے ہیں 
زندگی کمپیوٹر کی چِپ میں کہیں کھو گئی ہے
اڑانوں کے نوچے ہوئے آسماں سے
 چرائے ہوئے چاند تارے
مری خاک کی تجربہ گاہ میں 
اب پڑے۔۔ ڈر رہے ہیں
زمیں اپنے جوتوں کی ایڑھی کے نیچے
انہیں نہ لگادے کہیں
اجالوں کی رحمت بھری دھوپ
 چمگادڑوں کی نظر میں ملا دی گئی ہے
عجائب گھروں میں پرانے زمانے کی مضبوط انگیا
اور ماضی سے وابستہ شہوت کی کھالیں
 سجادی گئی ہیں
اک امرد پرستی کے بازار کے
 بدعمل پادری کے گلے کی صلیبیں
مسیحا کی چھاتی کی زینت بنا دی گئی ہیں
ازل سے گزرتے ہوئے وقت کے سنگ کی ایک تحریر ۔۔ میرا بدن
میں صدیوں پرانا کوئی شخص ہوں
مجھے اپنی آنکھیں پرانی لحد میں چھپانی پڑی ہیں
مجھے اپنے کانوں میں سیسے کا سیال بھرنا پڑا ہے
مگر کچھ سوالوں بھری ۔۔زپ ہوئی ایک فائل۔۔
آتے ہوئے وقت کے فولڈر میں
’’نئی سوچ ‘‘کے نام سے رکھ رہا ہوں۔۔
اسے دیکھ لینا۔



ان زپ فائل


کتابوں میں رکھے ہوئے تتلیوں کے پروں کی شفق اب کہاں جائے گی
درختوں پہ لکھے ہوئے نام سے
یار کو بھیجنے والے رومال پر
سرخ ریشم کے ہوتے ہوئے کام سے
رنگ و خوشبو کے مہکے ہوئے بام سے
ہجر کی صبح سے ، وصل کی شام سے
گفتگو کرنے والا
مرے جیسا ٹوٹے ہوئے خواب شب بھر رفو کرنے والا کہاں جائے گا

رسپانس


تمہیں اپنے ہاتھوں کو
آرے سے کیوں کاٹنا پڑ گیا ہے
تمہیں اپنے پائوں سے بھاری چٹانوں کو
کیوں باندھنا پڑ گیا ہے
کہو نور سے تیز رفتار
اڑتے پرندوں پہ بیٹھے ہوئے خاک رو۔۔کچھ کہو
کچھ کہو کمپیوٹر کی بڑھتی ہوئی
دسترس کے جہاں ساز ماحول نے
کس بلندی سے تجھ نوازا کہو۔
سوچنے پر میسر جہاں چیز ہو جاتی تھی۔۔
۔وہ بہشتِ حسیں
جس کا وعدہ تھا
وہ سر خوشی خاک پر تم کو دے دی گئی
اپنے ہاتھوں سے نرماہٹوں کو چھوئو،
اپنے کانوں کو رس گھولتی روشنی بخش دو
اپنی آنکھوں میں پھیلا دو بس حسن کو
اپنے پائوں کو قالین کی نرم آغوش میں لمس کی راستے پہ روانہ کرو۔
دوستی ۔۔۔رس بھری زندگانی سے بس دوستی۔۔





معجزہ ئ جنس




جب سراندیپ کے جزیرے پر
جسم آدم میں لمسِ حوا کے
خواب ہیجان بن کے لہرائے
کوہ جودی پہ جسمِ حوا میں 
جانے کس پُر جمال جذبے نے
کوئی مثبت سی آنچ سلگائی
وصل کی بے پنہ کشش جاگی
سارے عالم میں جسم کی خوشبو
بے کراں تیزیوں سے ہم آغوش
 ایسے پھیلی کہ پھیلتی ہی گئی
اپنی خوشبو کے ہی تعاقب میں
 ایک دوجے کی سمت بڑھتے گئے
اور کتنے ہزار کوسوں کی
وہ مسافت کی دوریاں گھٹ کر
چند لمحوں کے راہ میں بدلیں
یعنی اعجازِ جنس کے صدقے
زندگانی وجود میں آئی
اور خدائی شہود میں آئی

وقت کے محاصرے میں



  
آب جو کے ساتھ چلتی ایک پٹڑی اور میں
اپنے موٹر سائیکل کی تیز تر رفتار پر
سوچتا ہوں وقت سے آگے نکل آیا مگر
یہ کلائی پر بندھی راڈو کی روپہلی گھڑی
اپنی سوئی کی سبک اندام حرکت سے مجھے
پھر جکڑ دیتی ہے لمحوں کی کسی زنجیر میں


داستاں اداسی کی




کوئی اک خوبصورت اور اچھا دوست مل جائے
کسی اک غیر فانی شعر کی تخلیق ممکن ہو
یہی دو ہیں مری پرکار کے نقطے، یہی میں ہوں
یہی ہے داستاں میری اداسی کی


پنجوں کے بل چلنے کی اذیت






وہ اسی میز پہ بیٹھے اسی طرح ۔۔۔ بہت رات گئے
سامنے ان کے وہی دودھ کو ڈستا ہوا قہوہ بھی ہے
مسئلے بھی وہی ۔۔۔معروضی حقائق سے گریز
بھاپ اٹھتی ہوئی چینک سے
سگاروں سے نکلتے ہوئے مرغولوں میں
خارجیت کی کوئی سرخ لکیر
میز پر گھومتے کچھ دائرے چینی کو ملانے والے
بحث کرتے ہوئے تجریدی فسوں کاری پر
چائے کے بجتے ہوئے گرم پیالے گم سم
جن سے اٹھتی ہوئی بھاپوں میں مرے پانچ برس
جانے کس طرح ہوا گئے معلوم نہیں
میں نہیں ۔۔۔ آج نہیں ہوں ان میں 
اب تاسف سا بھی کیا ہونا ہے 
ہونے اور نہ ہونے کا مجھے
ان کو بے انت خوشی میرے نہ ہونے پہ تو ہے
ان کے چہرے توگلابوں کی طرح تازہ ہیں
آج کا دن بھی ’’بڑا دن ‘‘ ہے کوئی،ان کیلئے
یومِ مسرت ہے کوئی
سوچتا ہوں کہ کوئی پانچ
ان کی صحبت میں رہا ہوں میں بھی
میری قامت میں کوئی فرق تو آیا ہوگا
میں ہمالہ تھا
مگر جھک کے سکیسر کی طرح
جب بھی ملتا تھا وہ مغرور ہوا کرتے تھے
اپنے پنچوں پہ کھڑا ہو کے مرا ساتھ دیا کرتے تھے
اپنی ایڑھی کو ہمہ اٹھا کر چلنا
کتنا بے رحم علم ہے ، مجھے معلوم نہ تھا


صاحب منصور کے نام



اے صاحب منصور
فتح محمد خان تمہارے دادا تھے 
ایک بڑے انسان تمہارے دادا تھے 
ایک صدی سے چار برس کم کی عمر میں رحلت فرمائی
ساری عمر مسلسل محنت کی
مرتے دم تک کام کیا
اور مشقت سے جو مال کمایا
صرف وہی کچھ کھایا
عزت اور وقار سے جی کر
میرے جیسے بیٹوں کو پروان چڑھایا
یعنی میں نے ایک حرام کا لقمہ بھی
ساری عمر نہیں کھایا۔۔۔۔۔



صبر کے غیر فانی لمحے



سردیوں کی ایک گہری کالی ٹھنڈی اوربھیگی رات تھی
میری اور لیلیٰ کی منزل
 ’’چاپری‘‘ کے آخری کہسار پر
اپنے اک پختون ساتھی کی حویلی کی تھی
 نیلی خواب گاہ
چیپ بل کھاتی ہوئی کچی سٹرک پر
 چل رہی تھی شام سے
اور گہرے چمپ اس کو
 میرے اوپر ڈھیر کرتے جارہے تھے
ایک حد تک اس میں شامل تھے
خود اسکی اپنی جنسی خواہشوں کے ولولے 
لمس کی حدت سے تپتی جارہی تھیں
میری بھی شادابیاں
یعنی پتھر کا بدن اب موم ہوتا جارہا تھا
اور ابھی باقی تھا چودہ میل کا
 پرپیچ لمبا راستہ
وقت سے پہلے سفر آغاز کرنے سے بسا اوقات
موسمی حالات منزل چھین لیتے ہیں


لمحہ ئ وصال کھوجتی لکیر



نیم تاریک گلی ، رات کی پچھلی سانسیں
مرے قدموں سے نکلتے ہوئے لمبے سائے
ایک دروازے سے بہتی ہوئی روشن سی لکیر
میری بہکی ہوئی نظروں کی توجہ کیلئے
اپنی قامت میں بہت ردو بدل کرتی رہی
میں مگر ذات کے صحرا کہیں کھویا ہوا
خواب بنتی ہوئی بخ بستہ ہوا میں گم تھا
مجھ کو معلوم نہیں تھا کہ اجالے کی لکیر
اک سلگتے ہوئے جذبے کی خبر دیتی ہے


تہذیب کی دیوار





سن اٹھاسی جنوری اور برف باری کا سماں
تھامری کے جسم سے لپٹا ہوا لٹھے کا تھان
بس ابھی سورج برہنہ ہو رہا تھا شہر میں
کچھ بھٹکتے پھر رہے تھے آنچلوں کے ابر باد
مادہ السیشن کے ہمرہ گنگناتا اک جوان
دیکھتا جاتاتھا اڑتے بادنوں کے سات رنگ
اور اعلی نسل کے کتے کی ڈوری تھام کر
ایک لڑکی چل رہی تھی مال کی فٹ پاتھ پر
پھر اچانگ کھل گئیں دونوں کی ڈھیلی ڈوریاں 
وصل کی لذت میں گم ہوتے گئے پوری طرح
گھور کر ہی رہ گئے تہذیب کی دیوار کو
بے پنہ شاداب لڑکی اور دھکتا نوجواں


کھلم کھلی جیل





میرے ساتھ کے قیدی ۔۔
 روز شکایت کرتے تھے
جیل کے کمرے تنگ بہت ہیں۔۔۔۔۔
موت کے سائے سنگ بہت ہیں 
بند ہے جیون صندوقوں میں ۔۔۔۔
آگ اگلتی بندوقوں میں 
چند صحافی جیل میں آئے 
اخباروں کی خبریں بن کر
چھوٹی چھوٹی کوٹھریوں سے
 زخم نکل کرجاپہنچے ایوانوں تک
نازک ذہن حکومت کے
تجریدی آرٹ کے شہ پاروں کو سوچنے والے 
مہ پاروں کوسوچنے والے 
نرم ملائم آوازوں سے لطف اٹھانے والے 
خوگرپیار جھمیلوں کے، 
عادی خوابیدہ کھیلوں کے
اور مسائل جیلوں کے
ان کی سوچ سے باہر تھے
سوچتے تھے 
آبادی میں روز اضافہ ہوگا
روز شکایت ہوگی
کب تک ہم تعمیر کریں گے
 جیل کے کمرے
اس عقدے کے سلجھانے میں 
اپنی ساری عقل لگادی
کافی سوچ بچار کے بعد ۔۔
اپنے محلوں سے باہر کی دنیا جیل بنادی

اشتہار برائے ضرورت




کسی اخبار میں دیتا ہوں جا کر اشتہار اپنا
مجھے اک خوبصورت دوست کی فوری ضرورت ہے
صباحت خیز رنگت ہو ، صبا سی چال رکھتی ہو
بڑا شاداب چہرہ ہو، سنہرے بال رکھتی ہو
وہ کالی جھیل سی آنکھیں ، شفق سے گال رکھتی ہو
ادھوری شام رہتی ہو ، لب و رخسار میں اس کے
کوئی اقرار شامل ہو کہیں انکار میں اس کے
وہ چائے بھی بناتی ہو قرینے سے سلیقے سے
اسے شرمانا آتا ہو مگر اچھے طریقے سے
قلو پطرہ سے لب ہوں مسکراہٹ مونا لیزا سی
دوپٹے پھاڑتی پھرتی ہوئی الھڑ دوشیزہ سی
کئی کہسار و دریا ہوں کنارِ خواب تک اس کے
مسلسل چلتے رہنا ہو کنارِ خواب تک اس کے
بدن سے بات کرتی ہو ،نظر سے کیت کہتی ہو
میانوالی کے جیسی ہو ،جہاں چاہے وہ رہتی ہو
مرے گھر میں کسی خوش بخت کی فوری ضرورت ہے 


گم شدہ دوست چاندنی کے نام




اک لڑکی کلی کیسی
چاندی کے ورق جیسی ، سونے کی ڈلی جیسی
اک لڑکی چنبلی سی
معشوق وہ رنگوں کی ، خوشبو کی سہیلی سی
اک لڑکی گلابوں سی
وہ برف کے موسم میں ، ہنزہ کی شرابوں سی
وہ نام نزاکت کا
الھڑ سی جوانی پر ، جوبن تھا قیامت کا
موسم کی ادا جیسی
وہ سندھ کے ساحل پر چیتر کی ہوا جیسی
سورج کی کرن جیسی
ریشم سے ملائم وہ ، مخمل کے بدن جیسی
وہ دوست کتابوں کی
تھی دن کے اجالے میں ، وہ رات ثوابوں کی
کیا جانیے ہستی میں 
اب چاندنی رہتی ہے ، کس چاند کی بستی میں 


سال نامہ



سرکسِ ضمیر کے۔کج زدہ خمیر کے معجزوں میں کھو گیا
چلنے والا تار پرحیرتوں میں کھوگیا 
پُل صراطِ وقت پر آتے جاتے دیکھ کر
اِک ہجومِ مست کو۔۔۔۔۔۔۔۔ہست کو الست کو
سرکسِ ضمیر کے۔۔۔کج زدہ خمیر کے ۔۔۔۔۔
معجزوں میں کھو گیا

ایڈونس کے مست مست آج میں
رقص کے سماج میں
پچھلے سال میں نے بھی۔۔۔۔آتے جاتے دیکھے ہیں
ان گنت رواں دواں
بے خبر ضمیر سے۔ شعور سے۔زمین سے
بے حسی کی شاخ سے ۔۔۔۔لوگ کچھ گرے بھی ہیں
اپنی اپنی طے شدہ سوچ سے پھرے بھی ہیں

مینو طور کے فروغ میں
پچھلے سال بھی ہوئے ہیں
ملک کچھ امیر سے امیرتر
پچھلے سال بھی رہے ہیں بس
نرخرے سے بولتے سری کپوں کی قافلے
بے خبر رواں دواں بھرے ہوئے شکم کے ساتھ

پیٹ کے شعور پر
پچھلے سال سارتر کے گرم قہوہ خانے میں۔۔۔
بحث بھی بڑی ہوئی
چائے کیلئے ابھی
لاش ہے پڑی ہوئی
منزل ء معاش کے آخری فلور پر

آرگس کی ایک ایک آنکھ میں
پچھلے سال کچھ دئیے ۔۔۔مرے بھی ہیں جلوس میں
کچھ بجھا دئیے گئے ہیں جیل میں۔۔۔۔
دہشتوں کے کھیل میں
ایک لاکھ کے قریب ۔۔۔۔۔خالی پیٹ کے کرِم
جل کے راکھ ہوگئے ہیں دیدہ ء فریب میں،آس پاس خواب کے

پچھلے سال بھی رہے ۔۔۔۔۔آدمی کے گوشت کے
ریشے دانت دانت میں۔۔۔۔صدرِامن گاہ کے
(ہاں صفائی کیلئے ،خاکروب اب نئے
ملک ملک ڈھونڈتے پھر رہے ہیں لوگ کچھ
زندگی کے روگ کچھ)
اک پہاڑی موڑ پر۔۔۔گفتگو رکی نہیں ۔۔
پھول اور توپ کی
چل رہی ہے کار میں۔۔
اک عمودی شہر میں
پچھلے سال درد کچھ روڈ پر مرے بھی ہیں
سانحے کئی مگر زخم میں ہرے بھی ہیں
پیپ سے بھرے بھی ہیں
یہ گذشتہ سال بھی 
سامنے زیوس کے 
صرف سجدہ ریز تھا
ایک ایک ثانیہ
کیا ملال خیز تھا



ٹوٹا ہوا افق



 میانوالی بھی اپنی رُت بدلتا ہے مگر
مرے دل کی زمینوں پر
 وہی موسم خزاں کا
وہی بے شکل چہرہ آسماں کا
وہی بے آب دریا داستاں کا
وہی بے روح منظر ہیں
وہی بے رنگ تصویریں
وہی چشمے۔۔وہی ابلا ہوا پانی
درختوں سے
مسلسل بھاپ بن کر اٹھ رہاہے
پگھلتی جارہی ہیں میری راتیں
سوا نیزے پہ سورج ہے مگر شب کی سیاہی اڑ رہی ہے میری مٹی میں
مرے اندر کی فصلیں تیرگی کی دھوپ میں مرجھا گئی ہیں
مجھے کوئی شکستِ ذات کی علت بتادے

یقین کی غیر فانی ساعت



شام کے آدھے بدن پر تھے شفق کے کچھ گراف
دن چرانے پر تلا تھا رات کا تیرہ لحاف
اور آنگن میں مرا ننھا سا صاحب ٰ
بھاگتا پھرتا تھا جانے کیا پکڑنے کیلئے
اپنی مٹھی کھول کر پھر بند کر لیتا تھا وہ
میں نے پوچھا ’’کیا پکڑتے پھر رہے ہو۔صحن میں‘‘
بولا کرنوں کو پکڑتا ہوں 
’’ابھی کچھ دیر میں سورج مرا
سوجائے گا
 بستر میں جا کر رات کے‘‘


1۔صاحب منصور

قضا نہیں ہونا تجھے



لوح کا راستہ ، دھوپ کے شامیانوں سے ڈھانپا ہوا
اجنبی اجنبی چاپ سنتا رہا ۔۔۔۔ساتھ چلتا رہا 
اور پھر ایک دن ۔دس محرم کی آنکھوں سے نکلا ہوا
اک سنہری کنول
یوں اچھالا افق کی شفق جھیل میں۔۔۔
شام کے وقت نے
جیسے ابلیس سکہ کوئی
 پھینک دے رحمِ تاریخ کے سرخ کشکول میں
آسماں رک گیا۔۔۔ رک گیا آسماں
سو گیا اجتماعی لحد میں کہیں زندگی کا دمشق
میں نے سوچا کہ ایسے میں بہتے نہیں اشکِ آب فرات
راستہ روک ۔۔۔ پہلے پڑائو کے خیمے لگا
اور پھرشام کی بازگشتوں میں بہتی اذاں
مجھ سے کہنے لگی
وقت کو ضائع کرنا گناہِ کبیرہ سے بھی بڑھ کے ہے
قبلہ رُو ہو کے ’’لبیک ‘‘میں نے کہا
کوئی شہ رگ کے اندر سے کہنے لگا
کہ نمازیں قضالوٹ سکتی ہیں لیکن
 قضا ساعتیں لوٹ سکتی نہیں


ڈیپریشن

خوف کے جزیرے میں ۔۔قید ہوں میں برسوں سے۔۔
دور تک فصیلیں ہیں
اور ان پہ لوہے کی اونچی اونچی باڑیں ہیں۔نوک دار کیلیں ہیں
ڈالتا کمندیں ہوں۔۔جیل کے کناروں پر۔۔خاردار تاروں پر
سیٹیاں سی بجتی ہیںدیر تک سماعت میں۔۔
پہرے دار آتے ہیں
بیڑیاں سی سجتی ہیں۔۔
پائوں کو اٹھانا بھی ۔۔ہاتھ کوہلانا بھی 
جسم بھول جاتا ہے۔۔
جرم بھی نہیں معلوم ۔عمر بھی نہیں معلوم
کچھ پتہ نہیں مجھ کو۔۔اس طرف فصلیوں کے کس قدر سمندرہے
کشتیاں بھی چلتی ہیں۔۔بادباں بھی کھلتے ہیں۔۔
نور کے جہاں بھی ہیں۔جسم کے مکاں بھی ہیں۔۔
آدمی وہاں بھی ہیں ۔۔چھوڑئیے ۔نہیں جاتے 
کیا کریں گے باہر بھی ۔۔
ٹھیک ہیں فصلیوں میں۔
آنسوئوں کی جھیلوں میں چاند کو اتاریں گے۔۔
بے حسی کے ٹیلوں پر نقشِ پا ابھاریں گے
جیل کی عمارت میں زندگی گزاریں گے
موت کے گلمیر میں ڈوب ڈوب جائیں گے۔
قبر کے اندھیرے سے رات کو سجائیں گے
موت کا فسردہ پن کتنا خوبصورت ہے
اک جہاں اداسی کابس مری ضرورت ہے

نسبت کا پیوند

ماں نے کہا
’’رک جائو بیٹے ، رک جائو ۔۔
تم مر جائوگے
اور سپاہی بیٹا ۔
خستہ گھر کی ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ رک کر
ماں کے پائوں چھو کے بولا ’
’ماں مت روک مجھے
دیکھ پکارا ہے اس خاکِ وطن نے
جو ہم سب کی دھرتی ماں ہے
ماں! مت روک مجھے ۔۔۔
میں زندہ رہوں گا
زندہ ہے سقراط ابھی تک،
عیسٰی دار پہ جی اٹھا تھا
ماں! شبیر نہیں مر سکتا ،
سرمد اور منصور ابھی تک زندہ ہیں
پھر تیرا بیٹا کیسے مر سکتا ہے‘‘
ماں نے بیٹے کے ماتھے کو چوما اور کہا
’’تاریخ کے سینے پر تم ، دستِ تحقیق نہ رکھو
میرے چاند! تمہارا علم ادھورا ہے
تم مر جائو گے تم جیسے بے نام مجاہد مرتے آئے ہیں
زندہ ہے سقراط اگر تو اس کے پس منظر میں
اس کا علم بھی ہے اور رتبہ بھی
وہ استاد تھا اپنے وقت کے فاتح کا
تجھ کوعیسیٰ یاد رہا ہےلیکن
 اس کے پیچھے جو اعزازِ نبوت ہے وہ بھول گئے ہو
سرمداور منصور تو وقت کے ایسے حاکم تھے
علم رعایا تھا جن کی
شبیر نواسہ تھا سرکاردو عالم کا
اور تم صرف مرے بیٹے ہو
نسبت کا پیوند کہاں سے لائو گے
تم مر جائو گے ‘‘

سرگوشیاں


شرم سار راتوں اور پُر ثواب صبحوں سے سرگوشیاں

صبح جیسے پُرسعادت ساعتوں کا افتتاح
رات جیسے منجمد ہو جائیں تیرہ تر گناہ
مہر جیسے خیر وبرکت کی کمائی حشر میں
چاند جیسے شاخ کی ٹوٹی ہوئی قوسِ بہار
دوپہر اس سوچ میں گم تُو نے کیوں چھوڑا مجھے
اور تارے جیسے بوندیں شال پر بکھری ہوئی
شام جیسے خون میں ڈوبی ہوئی قربان گاہ
اور شفق جیسے لہو میں گم سپاہی کا لباس
کس طرح ممکن ہوا یہ روز و شب کا معجزہ

عبادت کار پھولوں اور محبت بار پیڑوں سے سرگوشیاں

پھول جیسے تیرے جوڑے پر مکمل تبصرہ
اور کلی جیسے تعلق کی خبر پھیلی ہوئی
پیڑ جیسے نیکیوں کا کوئی اونچا سائباں
اور تنا جیسے کسی کا غیر فانی اعتماد
شاخ جیسے کوئی انگڑائی بدن میں دیر تک
خار جیسے بسترِ شب پر مسلسل انتظار
نرم پتی جس طرح کانوں کی نازک سی لویں
اور پھل تیرے لبوں کے تلخ و شیریں ذائقے
کس طرح رو کش ہوئیں یہ نخل و گل کی دیویاں

مظلوم زمین اور بے رحم آسمان سے سرگوشیاں

آسماں جیسے مرے اند ر کی وسعت کا حصار
اور زمین جیسے کسی ماں کی مقدس چاہتیں
کہکشاں جب تم ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی
گرم صحرا جیسے لا محدود کرب ِ انتظار
جلوہ ، قوس ِ قزح تیرے بدن کے زاویے
سر د پانی تیرے میٹھے نرم لہجے کی طرح
کوہ جیسے میری سوچوں کی بلندی کا وقار
کالے بادل دشتِ جاں میں درد کی تاریک شام
اور ہوا جیسے تری سانسوں کا کومل زیر وبم
کس طرح جاری ہوا ارض و سما کا سلسلہ

سر گوشیوں کے سوالوں اور حیرت زدہ جوابوں سے سر گوشیاں

وادی ، ذہن و نظر میں ایسے پیچیدہ سوال
اضطراب افزا تسلسل سے جنم لیتے رہے
آدمی اور کائناتِ خارجی میں ارتباط
کیوں ہے ۔ کیا ہے۔ کس طرح ہے اور آخر کس لئے
مجھ  پہ کیا موقوف شاید کوئی بھی سمجھا نہیں