Wednesday, 3 August 2011

نسبت کا پیوند

ماں نے کہا
’’رک جائو بیٹے ، رک جائو ۔۔
تم مر جائوگے
اور سپاہی بیٹا ۔
خستہ گھر کی ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ رک کر
ماں کے پائوں چھو کے بولا ’
’ماں مت روک مجھے
دیکھ پکارا ہے اس خاکِ وطن نے
جو ہم سب کی دھرتی ماں ہے
ماں! مت روک مجھے ۔۔۔
میں زندہ رہوں گا
زندہ ہے سقراط ابھی تک،
عیسٰی دار پہ جی اٹھا تھا
ماں! شبیر نہیں مر سکتا ،
سرمد اور منصور ابھی تک زندہ ہیں
پھر تیرا بیٹا کیسے مر سکتا ہے‘‘
ماں نے بیٹے کے ماتھے کو چوما اور کہا
’’تاریخ کے سینے پر تم ، دستِ تحقیق نہ رکھو
میرے چاند! تمہارا علم ادھورا ہے
تم مر جائو گے تم جیسے بے نام مجاہد مرتے آئے ہیں
زندہ ہے سقراط اگر تو اس کے پس منظر میں
اس کا علم بھی ہے اور رتبہ بھی
وہ استاد تھا اپنے وقت کے فاتح کا
تجھ کوعیسیٰ یاد رہا ہےلیکن
 اس کے پیچھے جو اعزازِ نبوت ہے وہ بھول گئے ہو
سرمداور منصور تو وقت کے ایسے حاکم تھے
علم رعایا تھا جن کی
شبیر نواسہ تھا سرکاردو عالم کا
اور تم صرف مرے بیٹے ہو
نسبت کا پیوند کہاں سے لائو گے
تم مر جائو گے ‘‘

No comments:

Post a Comment