Wednesday, 3 August 2011

ڈیپریشن

خوف کے جزیرے میں ۔۔قید ہوں میں برسوں سے۔۔
دور تک فصیلیں ہیں
اور ان پہ لوہے کی اونچی اونچی باڑیں ہیں۔نوک دار کیلیں ہیں
ڈالتا کمندیں ہوں۔۔جیل کے کناروں پر۔۔خاردار تاروں پر
سیٹیاں سی بجتی ہیںدیر تک سماعت میں۔۔
پہرے دار آتے ہیں
بیڑیاں سی سجتی ہیں۔۔
پائوں کو اٹھانا بھی ۔۔ہاتھ کوہلانا بھی 
جسم بھول جاتا ہے۔۔
جرم بھی نہیں معلوم ۔عمر بھی نہیں معلوم
کچھ پتہ نہیں مجھ کو۔۔اس طرف فصلیوں کے کس قدر سمندرہے
کشتیاں بھی چلتی ہیں۔۔بادباں بھی کھلتے ہیں۔۔
نور کے جہاں بھی ہیں۔جسم کے مکاں بھی ہیں۔۔
آدمی وہاں بھی ہیں ۔۔چھوڑئیے ۔نہیں جاتے 
کیا کریں گے باہر بھی ۔۔
ٹھیک ہیں فصلیوں میں۔
آنسوئوں کی جھیلوں میں چاند کو اتاریں گے۔۔
بے حسی کے ٹیلوں پر نقشِ پا ابھاریں گے
جیل کی عمارت میں زندگی گزاریں گے
موت کے گلمیر میں ڈوب ڈوب جائیں گے۔
قبر کے اندھیرے سے رات کو سجائیں گے
موت کا فسردہ پن کتنا خوبصورت ہے
اک جہاں اداسی کابس مری ضرورت ہے

No comments:

Post a Comment