Wednesday, 3 August 2011

گم شدہ دوست چاندنی کے نام




اک لڑکی کلی کیسی
چاندی کے ورق جیسی ، سونے کی ڈلی جیسی
اک لڑکی چنبلی سی
معشوق وہ رنگوں کی ، خوشبو کی سہیلی سی
اک لڑکی گلابوں سی
وہ برف کے موسم میں ، ہنزہ کی شرابوں سی
وہ نام نزاکت کا
الھڑ سی جوانی پر ، جوبن تھا قیامت کا
موسم کی ادا جیسی
وہ سندھ کے ساحل پر چیتر کی ہوا جیسی
سورج کی کرن جیسی
ریشم سے ملائم وہ ، مخمل کے بدن جیسی
وہ دوست کتابوں کی
تھی دن کے اجالے میں ، وہ رات ثوابوں کی
کیا جانیے ہستی میں 
اب چاندنی رہتی ہے ، کس چاند کی بستی میں 


No comments:

Post a Comment