Wednesday, 3 August 2011

عشقِ مجاز کے چند لمحے



اب اس سولہ سالے۔۔
دلکش بھولے بھالے۔۔
نیلے نینوں والے
لڑکے سے درخواست کرو
’’شرنا‘کی آواز پہ ناچے ۔۔ جیسے کتھک ناچ کیا تھا کل اس نے
نازک قوس کلائی کی۔۔قوسِ قزح کے رنگ بکھیرے
نرم تھراہٹ پائوں کی۔۔جیسے پارہ ٹوٹتا جائے
تھر کاتا جائے اپنے بم
گھومے اپنی ایڑھی پر
اور تناسب نرم بدن کا تھال کے تیز کناروں پر دکھلائے
او رومی کے نغمے گانے والی۔۔۔سرخ سفید رقاصہ
آج تمہاری محفل میں 
میرے ہمرہ آئے ہوئے ہیں
حافظ ، خسرو، بلھے شاہ اور مادھولال حسین





No comments:

Post a Comment