Wednesday, 3 August 2011

تہذیب کی دیوار





سن اٹھاسی جنوری اور برف باری کا سماں
تھامری کے جسم سے لپٹا ہوا لٹھے کا تھان
بس ابھی سورج برہنہ ہو رہا تھا شہر میں
کچھ بھٹکتے پھر رہے تھے آنچلوں کے ابر باد
مادہ السیشن کے ہمرہ گنگناتا اک جوان
دیکھتا جاتاتھا اڑتے بادنوں کے سات رنگ
اور اعلی نسل کے کتے کی ڈوری تھام کر
ایک لڑکی چل رہی تھی مال کی فٹ پاتھ پر
پھر اچانگ کھل گئیں دونوں کی ڈھیلی ڈوریاں 
وصل کی لذت میں گم ہوتے گئے پوری طرح
گھور کر ہی رہ گئے تہذیب کی دیوار کو
بے پنہ شاداب لڑکی اور دھکتا نوجواں


No comments:

Post a Comment